30 اکتوبر، 2025، 3:06 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

قومی سلامتی کا راز، دفاعی خود انحصاری یا بیرونی معاہدے؟

قومی سلامتی کا راز، دفاعی خود انحصاری یا بیرونی معاہدے؟

حالیہ تجربات سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیرونی قوتوں سے دفاعی معاہدے کے بجائے اندرونی وسائل پر اعتماد کرکے ملک اور قوم کی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: دنیا کی ہر ذی شعور قوم کے لیے امن اور سیکورٹی ایک ایسا خواب ہے جو صرف نعرے یا وعدوں سے تعبیر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے ایک مضبوط نظریے، عملی منصوبہ بندی اور خود انحصاری کی بنیاد ضروری ہے۔ حقیقی امن کی تلاش میں قومیں اکثر دو مختلف راستوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ بعض ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ امن کا حصول بیرونی طاقتوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے ممکن ہے، یعنی طاقتور اقوام کے سائے میں رہ کر معاہدے کرنا اور ان کی مدد پر انحصار کرنا ہی قومی سلامتی کی ضمانت ہے۔ تاہم یہ طریقہ عملی خود اعتمادی اور قومی خودداری کو کمزور کردیتا ہے اور اکثر ایسے ممالک کو عالمی مفادات اور استعمار کی گرفت میں لے آتا ہے۔

دوسری جانب وہ قومیں ہیں جو سمجھتی ہیں کہ حقیقی پائیدار امن ملکی صلاحیتوں، وسائل اور دفاعی استعداد پر بھروسہ کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ ممالک اپنی معیشت، ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں خود کفالت پیدا کرتے ہیں۔ ایران اور شمالی کوریا اس نظریے کی واضح مثال ہیں، جہاں امن کی بنیاد خریدی گئی طاقت یا بیرونی وعدوں پر نہیں بلکہ قومی خود انحصاری اور مستقل تیاری پر رکھی گئی ہے، جو حقیقی عزت اور سلامتی کی ضامن ہے۔

قومی غیرت کے بدلے سیکورٹی

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ امن کو خریدا جاسکتا ہے یعنی اگر آپ کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے تو آپ عالمی طاقتوں کے ساتھ دفاعی معاہدے کرکے جدید اسلحہ خرید کر اپنے ملک کے لیے پائیدار امن یقینی بناسکتے ہیں۔ بظاہر یہ نظریہ درست لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ عالمی استعمار کے جال کا ایک حصہ ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپی طاقتیں ترقی پذیر ملکوں کے خوف کو اپنی معیشت کا ایندھن بناتی ہیں۔ ان کی اسلحہ ساز کمپنیاں اربوں ڈالر کماتی ہیں، جبکہ خریدار ممالک کے عوام غربت، بے روزگاری اور سماجی بحرانوں میں مبتلا رہتے ہیں۔

یہ وہی نظریہ ہے جس نے مشرق وسطی کے کئی عرب ممالک کو طاقتور افواج اور جدید اسلحے کے باوجود کمزور اور تابع بنائے رکھا۔ جب چاہے واشنگٹن یا لندن کا کوئی سربراہ ان کی تحقیر کردیتا ہے اور وہ خاموشی سے چہرے پر مسکراہٹ سجائے کھڑے رہتے ہیں۔ ان ممالک نے اپنی قومی غیرت کو تیل کے کنوؤں میں دفن کر دیا ہے۔ یہی وہ المیہ ہے کہ ان قوموں نے اپنی عزت کا سودا کرکے سیکورٹی اور خودداری کے بدلے غلامی خرید لی ہے۔

دفاعی خودمختاری اور عزت کا تحفظ

اس کے مقابلے میں دوسری سوچ بھی پائی جاتی ہے جو درحقیقت حقیقی امن کی بنیاد ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس میں قومیں اپنے وسائل، اپنی ٹیکنالوجی، اپنے دفاعی نظام اور اپنی دانش پر بھروسہ کرتی ہیں۔ اس نظریے کے مطابق امن خریدا نہیں جاتا، بلکہ اندرونی طور پر یقینی بنایا جاتا ہے۔ اور اس کی قیمت محنت، خودمختاری، تحقیق اور قربانی ہے۔

دنیا کے چند ممالک نے اس نظریے پر عمل کرکے ثابت کیا کہ عزت و سلامتی صرف خود انحصاری سے حاصل ہوتی ہے۔ شمالی کوریا نے امریکہ کے تمام تر دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود اپنی دفاعی طاقت کو خود بنایا۔ وہ آج کسی کے رحم و کرم پر نہیں، بلکہ اپنی ٹیکنالوجی پر کھڑا ہے۔ اسی طرح ایران نے پچھلی دہائیوں میں ثابت کیا کہ حقیقی سلامتی کا راز اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔ انقلاب اسلامی کے بعد ایران نے مغربی اسلحے پر انحصار ترک کرکے اپنے ملک میں میزائل، ڈرون، ریڈار اور دفاعی نظام تیار کیے۔ یہی خود انحصاری کا فلسفہ تھا جس نے ایران کو عالمی طاقتوں کے سامنے سربلند رکھا۔

صہیونی حکومت کے ساتھ بارہ روزہ جنگ میں ایران نے جو دفاعی حکمت عملی اپنائی، وہ خود انحصاری کے فلسفے کی عملی تصویر تھی۔ ایران نے جنگ کے دوران جو بھی میزائل، ڈرون اور ہتھیار استعمال کیے، وہ سب اپنی قومی صنعت کے مرہون منت تھے۔ کسی مغربی ملک سے ہتھیار مانگنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ یہی وہ طاقت ہے جو ایک قوم کو خوددار اور باعزت بناتی ہے۔

ایران نے اپنے عزم و استقلال سے ثابت کیا کہ اگر ایک قوم ایمان، علم اور خود اعتمادی سے لیس ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا وقار نہیں چھین سکتی۔ یہی فلسفہ خطے کی مقاومتی گروہوں کا ہے۔ صہیونی حکومت اور امریکہ کے اعلانیہ حملوں اور مغربی ممالک کے پس پردہ اقدامات کا موثر جواب دینے کے لیے مقاومتی تنظیموں نے اندرونی طاقت کا سہارا لیا۔ انصار اللہ یمن کے سربراہ نے فخریہ انداز میں کہا کہ ہم نے عرب ممالک کی تاریخ میں اپنے زور بازو سے ہلکے ہتھیاروں سے لے کر میزائل تک خود تیار کیے۔

امریکہ و یورپ پر انحصار قومی وقار کا سودا

امریکہ اور یورپ پر انحصار کا انجام تاریخ میں بارہا دیکھا گیا ہے۔ وہ ممالک جو اپنے دفاع، معیشت یا سیاست میں مغرب کی مرہون منت رہے، آج بھی اس کے غلام اور ان کے ساتھ معاہدوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ عراق، شام، لیبیا، افغانستان اور دیگر ممالک میں امریکہ نے امن کے نام پر تباہی پھیلائی۔ یہ وہی طاقتیں ہیں جو انسانی حقوق، جمہوریت اور تحفظ کے نام پر قوموں کو لوٹتی ہیں۔ یورپ کی سیاست بھی اسی سرمایہ دارانہ مفاد پر مبنی ہے۔ فرانس اور برطانیہ کے اسلحہ ساز ادارے عرب ریاستوں سے اربوں ڈالر کماتے ہیں، مگر بدلے میں ان کی سلامتی نہیں بلکہ ان کی غلامی یقینی بناتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایسے ممالک کے پاس ہتھیار تو ہیں، مگر ارادہ اور وقار نہیں۔ وہ اپنے فیصلے واشنگٹن یا لندن کے اشارے پر کرتے ہیں۔

ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کسی بھی ملک کی سلامتی کی بنیاد نہ مال و دولت پر ہے نہ بیرونی طاقت کے وعدوں پر، بلکہ خود اعتمادی اور خود انحصاری پر ہے۔ جو قومیں دوسروں کے رحم و کرم پر اپنا تحفظ تلاش کرتی ہیں، وہ کبھی پائیدار امن حاصل نہیں کرسکتیں۔ اس کے برعکس جو قومیں اپنے وسائل، اپنے سائنس دانوں اور اپنے نظریے پر بھروسہ کرتی ہیں، وہی عزت و وقار کے ساتھ امن کی ضمانت دے سکتی ہیں۔

ایران، شمالی کوریا، اور یمن جیسے ممالک نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ غلامی کے معاہدے نہیں بلکہ خود انحصاری کا راستہ ہی قوموں کو عزت اور سلامتی عطا کرتا ہے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان ممالک خصوصا عرب دنیا اس حقیقت کو سمجھے کہ سلامتی مال و دولت سے حاصل نہیں کی جاتی بلکہ ملکی وسائل اور اپنے زور بازو سے یقینی بنائی جاتی ہے۔

News ID 1936204

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha